Mustafa Kamal on Fazlur Rehman, Pakistan Army & Administrative Units

Mustafa Kamal responds to Maulana Fazlur Rehman's statements on Pakistan Army and calls for administrative units, Karachi rights and local government powers.

10/19/20261 min read

Syed Mustafa Kamal discusses Maulana Fazlur Rehman, Pakistan Army and administrative units in a television interview.
Syed Mustafa Kamal discusses Maulana Fazlur Rehman, Pakistan Army and administrative units in a television interview.

مولانا فضل الرحمان کے فوج مخالف بیانیے سے اختلاف، انتظامی یونٹس پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہیں: مصطفیٰ کمال

کراچی: وفاقی وزیرِ صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما سید مصطفیٰ کمال نے مولانا فضل الرحمان کے پاک فوج سے متعلق بیانیے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اس مؤقف کی تائید نہیں کرتی۔ انہوں نے انتظامی یونٹس کے قیام، کراچی کے مسائل، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور پاکستان کی داخلی و خارجی سلامتی پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

نجی ٹی وی چینل پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ابتدا میں مولانا فضل الرحمان کے بیانات کو وقتی ناراضی سمجھا گیا، تاہم اب ان کے مسلسل مؤقف کے باعث اپنی جماعت کا نقطۂ نظر واضح کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے فوج مخالف بیانیے پر مصطفیٰ کمال کا ردعمل

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے بیانات کو داخلی اور خارجی، دونوں تناظر میں دیکھتے ہیں۔

انہوں نے ماضی کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے حکومت بننے کے الزامات سامنے آتے رہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان کے خاندان کے افراد بھی مختلف حکومتی عہدوں پر موجود تھے۔

مصطفیٰ کمال نے سوال اٹھایا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ مولانا فضل الرحمان کی مخالف ہوتی تو کیا ان کے لیے بلوچستان سے قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونا ممکن ہوتا؟

کراچی کی آبادی، مردم شماری اور شہری حقوق پر سوالات

وفاقی وزیرِ صحت نے کراچی کی آبادی، مردم شماری اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر بھی گفتگو کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 69 لاکھ تھی، جبکہ 2023 کی مردم شماری کے حوالے سے صوبائی سطح پر آبادی کے اعداد و شمار پر اختلافات سامنے آئے۔

ان کے مطابق وفاق کی جانب سے آبادی میں اضافے کو تسلیم کیے جانے کے بعد کراچی کی مجموعی آبادی دو کروڑ تین لاکھ بنتی ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کے شہری پانی، تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومت کی موجودگی کے باوجود ان مسائل کا مؤثر حل سامنے نہیں آرہا۔

کراچی اور حیدرآباد میں منتخب نمائندوں کے اختیارات کا مسئلہ

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت کے منتخب نمائندے کراچی اور حیدرآباد میں عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ضروری انتظامی اختیارات سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے کراچی میں 22 نشستیں ہونے کے باوجود منتخب نمائندے پانی کا ایک کنکشن لگوانے تک کے لیے بااختیار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس، بیوروکریسی اور مختلف انتظامی ادارے صوبائی نظام کے تحت کام کرتے ہیں، لیکن عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو رہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق اختیارات کی غیر مؤثر تقسیم سے شہری علاقوں میں احساسِ محرومی بڑھتا ہے اور جمہوری نظام کی افادیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

پاکستان کی سلامتی اور پاک فوج کے کردار پر مؤقف

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ جمہوریت اور آئینی نظام پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام عوامی مسائل جمہوری طریقوں سے حل کیے جائیں۔

تاہم ان کے مطابق پاکستان کی موجودہ داخلی اور خارجی سلامتی کی صورتحال میں پاک فوج کا کردار انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے لیبیا، عراق، افغانستان اور یمن کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایسے حالات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے جو ریاستی استحکام اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مضبوط ریاستی ادارے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

افغان طالبان، دہشت گردی اور مولانا فضل الرحمان کے بیانات

افغانستان اور افغان طالبان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات رہے ہیں اور ماضی میں پاکستانی ریاستی اداروں کے بھی ان سے روابط موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے سرگرم عناصر کو پاکستان میں دہشت گردی سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

ان کے مطابق پاکستان نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسائل پر افغان طالبان سے مذاکرات اور رابطوں کی کوششیں کیں، تاہم مطلوبہ نتائج سامنے نہ آنے کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

سید مصطفیٰ کمال نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانیے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے بعض بیانات افغان طالبان کے مؤقف سے مماثلت رکھتے ہیں اور بھارتی میڈیا پر بھی نمایاں کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔

انتظامی یونٹس کا قیام پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے: مصطفیٰ کمال

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام ایم کیو ایم پاکستان اور شہری آبادیوں کے لیے بقا کا معاملہ ہے۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے حوالے سے اختیار کیے گئے مؤقف پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوام کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیے جاسکتے۔

ان کے مطابق انتظامی یونٹس کے قیام کا بنیادی مقصد شہریوں کو بااختیار بنانا، مقامی مسائل کا حل تلاش کرنا اور عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کرنا ہے۔

کراچی کے مسائل کا حل اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ہے

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے مؤثر انتظامی ڈھانچہ ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی، صحت، تعلیم، روزگار، صفائی اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی اسی وقت بہتر ہوسکتی ہے جب مقامی سطح پر اداروں اور منتخب نمائندوں کو حقیقی اختیارات حاصل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو گلی، محلے اور علاقے کی سطح پر بااختیار بنانے کی تجویز کی مخالفت کے بجائے اس پر سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم پاکستان کا انتظامی اصلاحات پر مؤقف

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان انتظامی اصلاحات، اختیارات کی منتقلی اور شہری مسائل کے آئینی و جمہوری حل کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے مؤثر انتظامی نظام ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس کا قیام محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور انہیں بااختیار بنانے سے متعلق ایک اہم معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ یہ مؤقف سید مصطفیٰ کمال نے نجی ٹی وی چینل پر اپنی خصوصی گفتگو کے دوران پیش کیا۔

Engagement

Showcasing MQM Pakistan's daily political activities.

Updates

Leadership

contact@digitalmqm.com

© 2025. All rights reserved.